بسم اللہ الرحمن الرحیم
علم کی مجلسوں کی فضیلت
قرآن و حدیث کی روشنی میں
تمہید
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
اسلام میں علم حاصل کرنا ایک عظیم عبادت ہے، لیکن علم کی مجلسوں میں بیٹھنا بھی ایسی سعادت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ جب مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے قرآن و حدیث، دین اور نافع علم سیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو وہ صرف ایک درس میں شریک نہیں ہوتے بلکہ رحمتِ الٰہی، فرشتوں کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت کے مستحق بن جاتے ہیں۔
آج کے دور میں جہاں وقت کا بڑا حصہ دنیاوی مصروفیات میں گزر جاتا ہے، وہاں علم کی مجلسیں دلوں کو زندہ کرنے، ایمان کو تازہ کرنے اور زندگی کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
علم کی مجلس کیا ہے؟
علم کی مجلس وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سیکھی اور سکھائی جائیں۔ چاہے وہ مسجد کا درس ہو، قرآن کریم کی تلاوت ہو، حدیث کا حلقہ ہو یا دینی رہنمائی کی کوئی نشست، ہر ایسی محفل علم کی مجلس ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں اور جنہیں علم دیا گیا ہے، ان کے درجات بلند فرمائے گا۔"
(سورۃ المجادلہ: 11)
یہ آیت بتاتی ہے کہ علم کی وجہ سے انسان کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند ہو جاتا ہے، اور علم کی مجلسیں اسی بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اس کا درس دیتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کا ذکر فرماتا ہے۔"
(صحیح مسلم)
سوچیے! ایک علم کی مجلس میں بیٹھنے والے کو کتنی عظیم نعمتیں حاصل ہوتی ہیں:
دل کا سکون
اللہ کی رحمت
فرشتوں کی موجودگی
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت و شرف
علم کی مجلسیں دلوں کو زندہ کرتی ہیں
دنیا کی مصروفیات، پریشانیاں اور گناہ انسان کے دل کو سخت کر دیتے ہیں، لیکن جب وہ قرآن و حدیث کی مجلس میں بیٹھتا ہے تو اس کا دل نرم ہوتا ہے، ایمان تازہ ہوتا ہے اور زندگی کا مقصد دوبارہ یاد آتا ہے۔اسی لیے سلف صالحین علم کی مجلسوں کو دلوں کی بہار کہا کرتے تھے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا شوق
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی ہر مجلس میں حاضر ہونے کی کوشش کرتے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ ایک مجلس میں حاصل ہونے والا علم پوری زندگی بدل سکتا ہے۔
ان کے لیے علم صرف معلومات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تھا۔
علم کی مجلسوں کے فوائد
1. ایمان میں اضافہ
قرآن و حدیث سننے سے ایمان تازہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر یقین مضبوط ہوتا ہے۔
2. علم میں برکت
جو شخص علم کی مجلسوں میں باقاعدگی سے بیٹھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے علم میں برکت عطا فرماتا ہے۔
3. نیک صحبت
ایسی مجالس میں نیک لوگوں کی صحبت ملتی ہے، جو انسان کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔
4. عمل کی توفیق
علم کی مجلسیں صرف معلومات نہیں دیتیں بلکہ عمل کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہیں۔
5. آخرت کی کامیابی
جو علم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حاصل کیا جائے، وہ آخرت میں نجات اور بلند درجات کا سبب بنتا ہے۔
آج کے دور میں علم کی مجلسیں
آج اگر مسجد میں درس ہو، کسی عالم کا بیان ہو، قرآن کا حلقہ ہو یا مستند اسلامی تعلیمات پر مبنی آن لائن درس ہو، تو اس میں شرکت کو معمول بنائیں۔
لیکن یاد رکھیں کہ علم ہمیشہ مستند علماء اور قابلِ اعتماد ذرائع سے حاصل کرنا چاہیے۔
اپنے آپ سے ایک سوال
ہم روزانہ دنیا کے کاموں کے لیے گھنٹوں نکال لیتے ہیں، لیکن کیا ہم ہفتے میں ایک گھنٹہ بھی قرآن و حدیث کی مجلس کے لیے نکالتے ہیں؟اگر نہیں، تو آج ہی یہ عہد کریں کہ اپنی زندگی میں علم کی ایک مستقل مجلس ضرور شامل کریں گے۔
اختتامیہ
علم کی مجلسیں صرف درس نہیں ہوتیں بلکہ دلوں کی اصلاح، ایمان کی تازگی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دل میں سکون ہو، ایمان مضبوط ہو اور زندگی میں برکت آئے، تو علم کی مجلسوں سے اپنا تعلق مضبوط کر لیجیے۔
شاید ایک مجلس، ایک حدیث، یا قرآن کی ایک آیت آپ کی پوری زندگی بدل دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع کی مجلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے، سیکھنے، عمل کرنے اور دوسروں تک خیر پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔