علم پر عمل کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
تعارف
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید المرسلین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو صرف علم حاصل کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اس علم پر عمل کرنے کی بھی تاکید کرتا ہے۔ اگر علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو وہ انسان کے لیے نفع کے بجائے حجت بن جاتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں بار بار اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ کامیابی صرف جاننے میں نہیں بلکہ جان کر اس پر عمل کرنے میں ہے۔
آج کے دور میں معلومات کا حصول بہت آسان ہو گیا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ علم پر عمل کرنے والے افراد کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی، بداعتمادی اور اخلاقی کمزوری بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر مسلمان اپنے علم کو عمل کے ساتھ جوڑ لیں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خوشحالی اور سکون پیدا ہو سکتا ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں علم پر عمل کی اہمیت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔"
(سورۃ الصف: 2-3)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ محض علم یا نصیحت کافی نہیں بلکہ انسان کو پہلے خود اس پر عمل کرنا چاہیے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"
(سورۃ البقرۃ: 44)
یہ آیت ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو دوسروں کو نصیحت تو کرتے ہیں لیکن اپنی زندگی میں اس پر عمل نہیں کرتے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں علم پر عمل کی فضیلت
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن بندہ اس وقت تک اپنے قدم نہیں ہٹا سکے گا جب تک اس سے اس کے علم کے بارے میں یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس پر کتنا عمل کیا۔"(جامع ترمذی)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر عمل کا بھی حساب ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ ایک دعا میں فرمایا کرتے تھے:
"اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔"(صحیح مسلم)
علم اسی وقت نفع بخش بنتا ہے جب وہ انسان کے کردار، اخلاق اور عبادات میں نظر آئے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم علم حاصل کرتے اور فوراً اس پرعمل کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے دس آیات سیکھتے، پھر جب تک ان پر عمل نہ کر لیتے، اگلی آیات نہیں سیکھتے تھے۔اسی لیے صحابۂ کرام علم اور عمل دونوں میں امت کے بہترین نمونہ بنے۔
علم بغیر عمل کے نقصانات
علم بے برکت ہو جاتا ہے۔
انسان دوسروں کے لیے مثال نہیں بن پاتا۔
علم قیامت کے دن انسان کے خلاف دلیل بن سکتا ہے۔
معاشرے میں منافقت اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔
علم پر عمل کرنے کے فوائد
جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے،
اللہ تعالیٰ اسے بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کے علم میں اضافہ فرماتا ہے۔
دل میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
لوگوں میں عزت اور اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
دعائیں قبول ہونے کے اسباب بڑھتے ہیں۔
دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
ہم علم پر عمل کیسے کریں؟
:علم پر عمل کرنے کے لیے چند اہم باتیں اختیار کرنی چاہییں
قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھیں اور اس کے احکامات پر عمل کریں۔
رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔
جو علم سیکھیں، پہلے خود اس پر عمل کریں پھر دوسروں تک پہنچائیں۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص اور ثابت قدمی کی دعا کرتے رہیں۔
نتیجہ
اسلام میں علم کا اصل مقصد انسان کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ جو علم انسان کے کردار، عبادات، معاملات اور اخلاق میں نظر نہ آئے، وہ اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتا۔ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو علم حاصل بھی کرے، اس پر اخلاص کے ساتھ عمل بھی کرے اور پھر دوسروں تک بھی پہنچائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم عطا فرمائے، اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمارے علم کو دنیا و آخرت میں ہمارے لیے باعثِ نجات بنائے۔ آمین۔
علم پر عمل کی اہمیت: سوال و جواب
اگر یہ مضمون آپ کو پسند آیا ہو تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں، اور مزید اسلامی و تعلیمی مضامین کے لیے رحمت ٹی۔وی اُردو کو باقاعدگی سے وزٹ کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔