rahmattvurdu.com

وقت کی قدر اور کامیابی

قرآن و حدیث کی روشنی میں

تعارف
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ان تمام نعمتوں میں ایک ایسی نعمت بھی ہے جو ایک بار گزر جائے تو کبھی واپس نہیں آتی، اور وہ ہے وقت۔ وقت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی امانت ہے۔ جو شخص اپنے وقت کی قدر کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے، جبکہ وقت کو ضائع کرنے والا اکثر ندامت اور محرومی کا شکار ہوتا ہے۔اسلام ہمیں وقت کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے اور زندگی کے ہر لمحے کو نیکی، عبادت، علم اور خدمتِ خلق میں صرف کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

قرآنِ کریم میں وقت کی اہمیت
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے، جو اس کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
ترجمہ: "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔
(سورۃ العصر: 1-2)
سورۃ العصر ہمیں بتاتی ہے کہ وقت کو ضائع کرنے والا خسارے میں ہے، جبکہ ایمان، نیک اعمال، حق کی تلقین اور صبر اختیار کرنے والے ہی کامیاب ہیں۔

حدیثِ نبوی ﷺ میں وقت کی اہمیت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ»
ترجمہ:"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں: صحت اور فارغ وقت۔" (صحیح بخاری)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صحت اور وقت دونوں کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ یہی کامیابی کا سرمایہ ہیں۔

وقت کی قدر کیوں ضروری ہے؟
وقت انسان کی زندگی کا سرمایہ ہے۔ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔جو شخص اپنے وقت کو علم حاصل کرنے، عبادت، محنت، والدین کی خدمت اور
معاشرے کی بھلائی میں صرف کرتا ہے، وہ کامیاب انسان بن جاتاہے۔

کامیاب لوگوں کی ایک مشترک عادت
دنیا کے کامیاب افراد کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، غیر ضروری کاموں سے بچتے ہیں اور ہر دن کو قیمتی سمجھتے ہیں۔مسلمان کے لیے اس سے بھی بڑھ کر نمونہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی ہے، جہاں عبادت، تعلیم، دعوت، خاندان، معاشرہ اور آرام، ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر ہوتی تھی۔

وقت ضائع کرنے کے نقصانات
علم حاصل کرنے کے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔
عبادت میں سستی آتی ہے۔
انسان ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔
حسرت اور پچھتاوا نصیب ہوتا ہے۔
زندگی بے مقصد محسوس ہونے لگتی ہے۔

وقت کی حفاظت کیسے کریں؟
1۔ دن کی منصوبہ بندی کریں صبح اٹھتے ہی اپنے اہم کام لکھیں اور انہیں ترتیب سے مکمل کریں۔
2۔ نمازوں کی پابندی کریں نماز وقت کی پابندی سکھاتی ہے اور زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔
3۔ غیر ضروری مصروفیات سے بچیں فضول گفتگو، بے مقصد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ وقت ضائع نہ کریں۔
4۔ روزانہ مطالعہ کریں ہر روز کم از کم کچھ وقت قرآنِ کریم، حدیث اور مفید کتابوں کے مطالعے کے لیے ضرور نکالیں۔
5۔ نیکی کے کاموں میں سبقت کریں جو نیکی آج کی جا سکتی ہے اسے کل پر نہ چھوڑیں۔

طلبہ کے لیے پیغام
طالب علم اگر وقت کی قدر کرے تو وہ کم وقت میں بھی بہترین کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
ہر روز مقررہ اوقات میں پڑھائی، دہرائی اور آرام کا نظام بنائیں۔

نتیجہ
وقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور قیمتی امانت ہے۔
کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے ہر لمحے کو اللہ تعالیٰ کی رضا، علم حاصل کرنے، نیکی کرنے اور انسانیت کی خدمت میں صرف کرے۔ جو وقت کی قدر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت عطا فرماتا ہے اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وقت کی صحیح قدر کرنے، اسے نیکی اور علم کے حصول میں صرف کرنے اور ہر لمحے کو اپنی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top