علمِ نافع کیا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
تعارف
انسان کی زندگی میں علم ایک عظیم نعمت ہے، لیکن ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اسلام نے ایسے علم کی تعلیم دی ہے جو انسان کو اپنے رب کی پہچان عطا کرے، اس کے ایمان کو مضبوط بنائے، اس کے اخلاق سنوارے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے۔ ایسے علم کو "علمِ نافع" کہا جاتا ہے۔
آج کے دور میں معلومات کی کمی نہیں، لیکن دلوں میں سکون، کردار میں پاکیزگی اور زندگی میں برکت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم علم تو حاصل کرتے ہیں، مگر اس میں نفع اور عمل کی روح پیدا نہیں کرتے۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں جانتے ہیں کہ علمِ نافع کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جائے۔
علمِ نافع کیا ہے؟
علمِ نافع وہ علم ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرے، اس کی اصلاح کرے، اسے نیکی کی طرف لے جائے اور گناہوں سے بچائے۔
ایسا علم انسان کے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق کو بہتر بناتا ہے اور اسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب بناتا ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾
"اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔"
(سورۃ طٰہٰ: 114)
یہ قرآن کریم کی وہ عظیم دعا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ ایسے علم کا طلبگار رہے جو اس کے لیے نفع بخش ہو۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾
"اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
"(سورۃ فاطر: 28)
یہ آیت بتاتی ہے کہ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف، محبت اور تقویٰ پیدا کرے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ:
"اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔"
(سنن ابن ماجہ)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔
(صحیح مسلم)
اس سے معلوم ہوا کہ ہر علم قابلِ تعریف نہیں، بلکہ وہی علم بہترین ہے جو انسان کی زندگی میں خیر اور ہدایت پیدا کرے۔
علمِ نافع کی نشانیاں
اگر کوئی شخص جاننا چاہے کہ اس کا علم نافع ہے یا نہیں، تو وہ ان نشانیوں پر غور کرے:
علم سے ایمان مضبوط ہو۔
عبادات میں خشوع پیدا ہو۔
اخلاق بہتر ہوں۔
عاجزی اور انکساری آئے۔
گناہوں سے نفرت پیدا ہو۔
لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک بڑھ جائے۔
علم پر عمل کی توفیق ملے۔
دوسروں کو خیر کی دعوت دینے کا جذبہ پیدا ہو۔
علمِ نافع کیسے حاصل کریں؟
علمِ نافع حاصل کرنے کے لیے چند باتوں کا اہتمام ضروری ہے:
اخلاص کے ساتھ علم حاصل کریں۔
قرآن کریم کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں۔
صحیح احادیث کا مطالعہ کریں۔
نیک اور معتبر علماء سے رہنمائی حاصل کریں۔
جو علم سیکھیں، اس پر فوراً عمل کریں۔
اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ علمِ نافع کی دعا مانگیں۔
علمِ نافع کے فوائد
علمِ نافع انسان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔
عبادات میں لذت پیدا ہوتی ہے۔
کردار بہترین بنتا ہے۔
معاشرے میں عزت اور اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
آخرت میں درجات بلند ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں علمِ نافع کی ضرورت
آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بے شمار معلومات موجود ہیں، لیکن ہر بات صحیح یا فائدہ مند نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان قرآن و سنت کے مطابق صحیح علم حاصل کرے، معتبر علماء کی رہنمائی لے اور ہر خبر یا معلومات کو تحقیق کے بعد قبول کرے۔
نتیجہ
علمِ نافع اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہی علم انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کرتا ہے۔ جب علم کے ساتھ اخلاص، عمل اور تقویٰ شامل ہو جائے تو یہی علم
انسان کی دنیا سنوارتا ہے اور آخرت میں نجات کا سبب بنتا ہے۔آئیے ہم سب اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں نفع دینے والا علم عطا فرمائے، اس پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمارے علم کو اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔