بسم اللہ الرحمن الرحیم
علم میں استقامت کی اہمیت
قرآن و حدیث کی روشنی میں
تعارف
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
علم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ یہی علم انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔ لیکن صرف علم حاصل کرنا ہی کامیابی نہیں، بلکہ اس علم پر ثابت قدم رہنا، مسلسل سیکھتے رہنا اور زندگی بھر اس پر عمل کرتے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
بہت سے لوگ بڑے شوق سے علم حاصل کرنا شروع کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ کچھ دنیا کی مصروفیات میں کھو جاتے ہیں، کچھ مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں، اور کچھ معمولی رکاوٹوں کی وجہ سے اپنا سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔
یاد رکھیے! منزل تک وہی پہنچتا ہے جو راستے کی مشکلات سے گھبرا کر واپس نہیں لوٹتا۔
علم کی راہ میں کامیابی صرف ذہانت سے نہیں بلکہ استقامت، صبر اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔
استقامت کیا ہے؟
استقامت کا مطلب ہے کہ انسان نیکی، علم، عبادت اور اطاعتِ الٰہی کے راستے پر ثابت قدم رہے۔ حالات بدل جائیں، آزمائشیں آ جائیں، مگر اس کا مقصد نہ بدلے۔
جس طالبِ علم نے استقامت اختیار کرلی، وہ آہستہ آہستہ وہ مقام حاصل کر لیتا ہے جو کبھی اسے ناممکن محسوس ہوتا تھا۔
قرآن کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوشخبری قبول کرو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔" (سورۃ فصلت: 30)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف آغاز اہم نہیں، بلکہ آخر تک ثابت قدم رہنا اصل کامیابی ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔"
(سورۃ ہود: 112)
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو بھی استقامت کا حکم دیا، تو ہم سب کے لیے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ پھر کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔"
(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ تھوڑا علم روزانہ حاصل کرنا، تھوڑا قرآن روز پڑھنا، تھوڑا عمل مسلسل کرنا، کبھی کبھی بہت زیادہ کرنے سے بہتر ہے۔
علم کے راستے میں استقامت کیوں ضروری ہے؟
علم ایک ایسا خزانہ ہے جو ایک دن یا ایک مہینے میں حاصل نہیں ہوتا۔
حافظِ قرآن برسوں محنت کرتا ہے۔
محدث برسوں سفر کرتا ہے۔
فقیہ برسوں مطالعہ کرتا ہے۔
اور ایک اچھا معلم اپنی پوری زندگی سیکھنے میں گزار دیتا ہے۔
اگر وہ درمیان میں ہمت ہار دیتا تو شاید آج امت اس کے علم سے محروم رہتی۔
سلف صالحین کی روشن مثال
امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیث کی تلاش میں ہزاروں میل کا سفر کیا، سینکڑوں اساتذہ سے علم حاصل کیا، اور بے شمار مشکلات برداشت کیں۔ اگر وہ راستے میں تھک کر بیٹھ جاتے تو آج امت صحیح بخاری جیسی عظیم کتاب سے محروم رہ جاتی۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کا راستہ صبر، قربانی اور استقامت مانگتا ہے۔
استقامت پیدا کرنے کے عملی طریقے
1. اپنی نیت کو بار بار درست کریں
ہر روز اپنے دل سے پوچھیں: میں علم کیوں حاصل کر رہا ہوں؟ اگر جواب اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، تو یہی نیت آپ کو آگے بڑھائے گی۔
2. روزانہ تھوڑا ضرور پڑھیں
چاہے صرف دس منٹ ہی کیوں نہ ہوں، مگر علم سے اپنا تعلق کبھی نہ توڑیں۔
3. علم پر فوراً عمل کریں
جو چیز آج سیکھی ہے، اسے آج ہی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ عمل، علم کو مضبوط کرتا ہے۔
4. نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں
اچھے دوست اور علماء کی مجلس انسان کو علم کے راستے پر ثابت قدم رکھتی ہے۔
5. اللہ تعالیٰ سے دعا کریں
ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے علمِ نافع اور استقامت کی دعا مانگیں۔
استقامت کے فوائد
علم میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔
دل کو سکون نصیب ہوتا ہے۔
انسان مایوسی سے محفوظ رہتا ہے۔
دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنتا ہے۔
ایک لمحہ غور کیجیے
کتنی کتابیں ہمارے گھروں میں موجود ہیں؟
کتنے اسلامی لیکچر ہم نے سنے؟کتنی احادیث ہمیں یاد ہیں؟
لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنی چیزیں ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں؟
یاد رکھیں! قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کتنا علم حاصل کیا؟
بلکہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ اس علم پر کتنا عمل کیا؟
نتیجہ
علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک مسلمان زندگی کے آخری لمحے تک سیکھتا بھی ہے، سکھاتا بھی ہے، اور اپنے علم پر عمل بھی کرتا ہے۔
اگر کبھی تھکن محسوس ہو، مشکلات آئیں یا حالات سازگار نہ ہوں، تو ہمت نہ ہاریں۔ ایک چھوٹا قدم بھی اگر مسلسل اٹھایا جائے تو انسان کو بڑی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع، اخلاص، استقامت اور اس علم پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے علم کو ہمارے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔