rahmattvurdu.com

علم حاصل کرنے کی نیت اور اخلاص کی اہمیت

قرآن و حدیث کی روشنی میں

تمہید
علم ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ علم انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اپنے نبی ﷺ کی اتباع کرے، حق اور باطل میں فرق کرے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارے۔
لیکن ذرا سوچئے!
اگر یہی علم انسان کے دل میں تکبر پیدا کردے، اگر علم حاصل کرنے کے بعد انسان دوسروں کو حقیر سمجھنے لگے، اگر علم کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے نام، شہرت، عزت، عہدہ یا لوگوں پر برتری حاصل کرنا بن جائے، تو کیا ایسا علم واقعی انسان کے لیے فائدہ مند ہے؟
یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے:
علم کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ انسان نے کتنا علم حاصل کیا، بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس علم کو حاصل کرنے کی نیت کیا تھی۔
اسی لیے اسلام نے علم کے ساتھ اخلاص اور نیت کو بہت اہمیت دی ہے۔

نیت علم سے پہلے آتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔
(صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
یہ حدیث ہمیں ایک عظیم اصول بتاتی ہے کہ کسی بھی نیک کام کی اصل بنیاد نیت ہے۔
ایک طالب علم اگر علم اس لیے حاصل کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے، دین کو سمجھنا چاہتا ہے، اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بننا چاہتا ہے، تو اس کا علم عبادت بن سکتا ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص علم صرف اس لیے حاصل کرے کہ لوگ اسے بڑا عالم سمجھیں، اس کی تعریف کریں، وہ دوسروں پر اپنی برتری ثابت کرے یا دنیاوی مقام حاصل کرے، تو اسے اپنی نیت پر غور کرنا چاہیے۔
اس لیے علم حاصل کرنے سے پہلے اپنے دل سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
میں علم کیوں حاصل کر رہا ہوں؟

علم کی سب سے خوبصورت نیت کیا ہے؟

علم حاصل کرنے کی سب سے خوبصورت نیت یہ ہے کہ انسان کہے:
اے اللہ! میں علم اس لیے حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ میں تجھے پہچان سکوں، تیرے احکام کو سمجھ سکوں، تیرے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی سنت پر چل سکوں، اپنی اصلاح کر سکوں اور تیرے بندوں کے لیے فائدہ مند بن سکوں۔
یہ نیت انسان کے علم کو ایک عظیم عبادت بنا سکتی ہے۔
علم کا اصل مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ انسان کو اللہ کے قریب کرنا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
اللہ کے بندوں میں سے وہی لوگ اس سے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
(سورۃ فاطر: 28)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم کا اثر انسان کے دل پر ظاہر ہوتا ہے۔ جب علم صحیح ہو اور نیت خالص ہو تو علم انسان کے اندر خشیت، عاجزی اور اللہ کی محبت پیدا کرتا ہے۔

علم انسان کو عاجز بناتا ہے

حقیقی علم انسان کو مغرور نہیں بناتا، بلکہ اسے جھکا دیتا ہے۔
جتنا انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت کو پہچانتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی کم علمی کا احساس ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
اور ہر علم والے کے اوپر ایک زیادہ علم رکھنے والا ہے۔
اور ہر علم والے کے اوپر ایک زیادہ علم رکھنے والا ہے۔
(سورۃ یوسف: 76)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی علم حاصل کرلے، اس کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم بے حد و حساب ہے۔
لہٰذا علم حاصل کرنے والے کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے:
میں جانتا ہوں، لیکن سب کچھ نہیں جانتا۔
یہی احساس انسان کو تواضع عطا کرتا ہے۔

علم صرف زبان پر نہیں، زندگی میں نظر آنا چاہیے

علم کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ انسان کے کردار کو بدل دے۔
اگر انسان قرآن پڑھتا ہے مگر جھوٹ نہیں چھوڑتا، حدیث پڑھتا ہے مگر تکبر نہیں چھوڑتا، علم حاصل کرتا ہے مگر والدین کا احترام نہیں کرتا، دین سیکھتا ہے مگر لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا، تو اسے اپنے علم کے اثر پر غور کرنا چاہیے۔
علم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان دوسروں کو بتائے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔
بلکہ علم کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے آپ کو درست کرے۔
اس لیے ایک صاحبِ علم کو ہر روز اپنے دل سے پوچھنا چاہیے:
آج میرے علم نے مجھے کتنا بدلا؟
اگر علم نے مجھے نرم نہیں کیا،
اگر علم نے مجھے عاجز نہیں کیا،
اگر علم نے مجھے اللہ کے قریب نہیں کیا،
اگر علم نے مجھے مخلوق کے لیے رحمت نہیں بنایا،
تو مجھے اپنے علم سے زیادہ اپنی نیت اور اپنے عمل کی فکر کرنی چاہیے۔

ریا سے علم کو بچانا ضروری ہے

اسلام نے ہمیں ہر نیک عمل میں اخلاص اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے کریں۔
(سورۃ البینہ: 5)
علم بھی اسی اخلاص کا محتاج ہے۔
کبھی انسان کو یہ خواہش ہونے لگتی ہے کہ لوگ اسے بڑا عالم سمجھیں، اس کی بات کو سب سے زیادہ اہمیت دیں، اس کی تعریف کریں اور اس کا نام مشہور ہو۔
ایسے وقت میں انسان کو اپنے دل کی حفاظت کرنی چاہیے۔
کیونکہ علم کا راستہ اللہ تک پہنچانے والا راستہ ہے، اسے اپنی شہرت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

علم کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے

علم اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہیں کرتے۔
(سورۃ الصف: 3)
اس لیے جو شخص علم حاصل کرے اسے چاہیے کہ وہ اپنے علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرے۔
علم ہمیں نماز کا حکم بتاتا ہے، تو ہم نماز کی پابندی کریں۔
علم ہمیں سچائی سکھاتا ہے، تو ہم سچ بولیں۔
علم ہمیں والدین کا احترام سکھاتا ہے، تو ہم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔
علم ہمیں معاف کرنا سکھاتا ہے، تو ہم دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔
علم ہمیں عاجزی سکھاتا ہے، تو ہم تکبر سے بچیں۔یہی علم کی حقیقی برکت ہے

ایک درد بھری بات

کبھی کبھی انسان برسوں کتابیں پڑھتا ہے، بہت کچھ یاد کرتا ہے، بہت کچھ سیکھتا ہے، لوگوں کو نصیحتیں کرتا ہے، لیکن اپنے دل کو بھول جاتا ہے۔
وہ دوسروں کی اصلاح میں مصروف رہتا ہے، مگر اپنے نفس کی اصلاح نہیں کرتا۔
وہ دوسروں کو اللہ کا راستہ دکھاتا ہے، مگر خود اللہ سے دور ہوتا جاتا ہے۔
وہ علم کی باتیں کرتا ہے، مگر اس کے اپنے اخلاق میں علم کی خوشبو نہیں ہوتی
اے میرے بھائی!
اے میری بہن!
علم حاصل کیجیے، ضرور کیجیے۔
کتابیں پڑھیے، قرآن سمجھیے، حدیث سیکھیے، اہلِ علم کی صحبت اختیار کیجیے۔
لیکن ہر بار علم حاصل کرتے ہوئے اپنے دل سے یہ ضرور کہیے:
یا اللہ! میرے علم کو میرے لیے حجت نہ بنانا، میرے لیے ہدایت بنانا۔
یا اللہ! میرے علم کو میرے تکبر کا سبب نہ بنانا، میری عاجزی کا سبب بنانا۔
یا اللہ! مجھے ایسا علم عطا فرما جو میرے دل کو زندہ کردے، میرے کردار کو سنوار دے اور مجھے تیرے قریب کردے۔

اخلاص والا علم کبھی ضائع نہیں ہوتا

دنیا میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے علم حاصل کیا، اخلاص کے ساتھ اسے آگے پہنچایا اور آج صدیوں بعد بھی لوگ ان کے علم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
یہی علم کی برکت ہے۔
ایک استاد اپنے شاگرد کو قرآن کی ایک آیت سکھاتا ہے، وہ شاگرد آگے کسی دوسرے کو سکھاتا ہے، پھر وہ کسی اور کو سکھاتا ہے۔ یوں ایک مخلص انسان کی کوشش نسلوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے
(صحیح البخاری: 5027)
لہٰذا علم حاصل کرنا بھی سعادت ہے اور اسے اخلاص کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا بھی عظیم سعادت ہے۔

اختتامیہ

علم ایک امانت ہے۔
یہ امانت ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے دی گئی ہے، نہ کہ لوگوں پر اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لیے۔
آئیے آج ہم اپنے دل میں ایک عہد کریں:
ہم علم حاصل کریں گے، مگر اخلاص کے ساتھ۔
ہم علم سیکھیں گے، مگر عمل کے لیے۔
ہم علم آگے پہنچائیں گے، مگر اللہ کی رضا کے لیے۔
ہم علم کے ساتھ عاجزی اختیار کریں گے۔
ہم علم کے ذریعے اپنے دل کی اصلاح کریں گے۔
اور جب بھی ہمیں کوئی نئی بات سیکھنے کو ملے گی تو ہم صرف یہ نہیں سوچیں گے کہ:
"میں نے کیا سیکھا؟"
بلکہ یہ بھی سوچیں گے:
"اس علم نے مجھے اللہ کے کتنا قریب کیا؟"
کیونکہ آخرکار کامیاب وہ نہیں جس کے پاس بہت سا علم ہو، بلکہ کامیاب وہ ہے جس کا علم اسے اللہ کی معرفت، عملِ صالح، عاجزی اور حسنِ اخلاق تک پہنچا دے۔
اے اللہ! ہمیں علمِ نافع عطا فرما، ہمارے علم میں اخلاص پیدا فرما، ہمارے علم کو ہمارے لیے ہدایت بنا، اور ہمیں اپنے علم پر عمل کرنے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top