اسلام میں تعلیم کا مقام
تمہید
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی فرمائی ہے۔ ان ہی بنیادی تعلیمات میں سے ایک تعلیم و تعلم ہے۔ اسلام نے علم کو عزت، عبادت اور ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ قرآن کریم کی پہلی وحی ہی "اِقْرَأْ" یعنی "پڑھئے" کے حکم سے شروع ہوئی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
قرآن مجید میں تعلیم کی اہمیت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ترجمہ: "پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔"(سورۃ العلق: 1)یہ اسلام کی پہلی وحی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی زندگی کا آغاز علم اور تعلیم سے ہونا چاہیے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ترجمہ: "اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔"(سورۃ المجادلہ: 11)
احادیث نبوی ﷺ میں تعلیم کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ترجمہ: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"(سنن ابن ماجہ)ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔"(صحیح مسلم)
تعلیم انسان کی شخصیت سنوارتی ہے۔
تعلیم صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے کردار، اخلاق، سوچ اور عمل کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے فرائض کو بہتر انداز میں سمجھتا ہے اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
دینی اور دنیاوی تعلیم
اسلام نے صرف دینی تعلیم پر زور نہیں دیا بلکہ ہر اس علم کی حوصلہ افزائی کی ہے جو انسان اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔دینی تعلیم انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کرتی ہے۔دنیاوی تعلیم انسان کو معاشی، سائنسی اور سماجی ترقی میں مدد دیتی ہے۔جب یہ دونوں علوم ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو ایک متوازن، دیانت دار اور کامیاب شخصیت وجود میں آتی ہے۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بہترین تعلیم دلائیں، جبکہ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ علم کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق اور کردار بھی سکھائیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جو معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
آج کے دور میں تعلیم کی ضرورت
آج کا زمانہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو وہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
اسلام میں تعلیم کا مقام نہایت بلند ہے۔ قرآن و حدیث نے علم حاصل کرنے، اسے دوسروں تک پہنچانے اور اس پر عمل کرنے کی بھرپور ترغیب دی ہے۔ ہر مسلمان مرد و عورت کو چاہیے کہ وہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم حاصل کرے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم عطا فرمائے، اس پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمارے علم کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔آمین یا رب العالمین۔