علم کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

علم کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
تمہید
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان تمام نعمتوں میں علم ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو انسان کو عزت، شعور، ہدایت اور کامیابی عطا کرتی ہے۔ علم ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ اسلام نے علم حاصل کرنے پر بہت زور دیا ہے اور قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
قرآن مجید میں علم کی اہمیت
:اسلام کی پہلی وحی کا آغاز ہی علم کے حکم سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
“اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”
ترجمہ: “پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”
(سورۃ العلق: 1)
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام علم اور تعلیم کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ”
ترجمہ: “کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”
(سورۃ الزمر: 9)
یہ آیت علم والوں کے بلند مقام کو واضح کرتی ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں علم کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے علم حاصل کرنے کی بہت ترغیب دی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“طلب العلم فريضة على كل مسلم”
ترجمہ: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔”
(سنن ابن ماجہ)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
علم انسان کی زندگی کیسے بدلتا ہے؟
علم انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔ علم انسان کے کردار کو سنوارتا ہے، اس کی سوچ کو بلند کرتا ہے اور اسے معاشرے کا مفید فرد بناتا ہے۔
علم کے ذریعے:
انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے۔
اپنے فرائض سے آگاہ ہوتا ہے۔
معاشرے میں عزت حاصل کرتا ہے۔
ترقی اور کامیابی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
دوسروں کے لیے فائدہ مند بنتا ہے۔
اسلام صرف دینی علم تک محدود نہیں بلکہ ہر اس علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔
دینی علم انسان کی آخرت سنوارتا ہے جبکہ دنیاوی علم انسان کی دنیاوی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ جب یہ دونوں علوم جمع ہو جائیں تو ایک متوازن اور کامیاب شخصیت وجود میں آتی ہے۔
نوجوان نسل اور علم
آج کا دور علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وقت کی قدر کریں، تعلیم حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں میں استعمال کریں۔
قوموں کی ترقی کا راز علم میں پوشیدہ ہے، اور جو قومیں علم کو اختیار کرتی ہیں وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔
علم پر عمل کی اہمیت
صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ایسا علم جو انسان کی زندگی میں تبدیلی نہ لائے، اس کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔
حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب علم کے ساتھ عمل اور اچھا کردار بھی شامل ہو۔
نتیجہ
قرآن و حدیث کی روشنی میں علم ایک عظیم نعمت اور اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ ہر مسلمان مرد اور عورت کو علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔ علم ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔